پاکستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ اور ٹیلی میڈیسن کے شعبے میں انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مرہم اور اولا ڈاک جیسے مقامی پلیٹ فارمز کی بدولت اب دور دراز کے مریض بھی گھر بیٹھے لاہور اور کراچی کے معروف ترین ڈاکٹروں سے ویڈیو کال پر معائنہ کروا سکتے ہیں۔
اس نظام کے ذریعے ادویات کی ہوم ڈیلیوری اور لیبارٹری ٹیسٹوں کی گھر سے سیمپلنگ کی سہولت نے مریضوں کے سفری اور علاج کے اخراجات میں بھاری کمی کی ہے۔ خاص طور پر ذہنی صحت اور نفسیاتی مسائل کے لیے آن لائن کونسلنگ میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں کاروبار اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI)، اسمارٹ فونز اور جدید سافٹ ویئر سلوشنز نے انسان کے کام کرنے کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری میں ان جدید ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی بدولت مقامی کمپنیاں بین الاقوامی کلائنٹس کو کم وقت میں معیاری خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ادارے جدید ٹیکنالوجی کو وقت پر اپنائیں گے وہ مستقبل میں معاشی میدان کے لیڈر ہوں گے۔
تعلیمی اور پیشہ ورانہ حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید ترین ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا سکیں اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما سکیں۔