آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارت توانائی نے October 19, 2026 کو ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کے سرکاری نرخوں کے تسلسل کی تصدیق کی ہے۔ پریمیئر یورو-5 پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ترسیل بلا تعطل جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے آئل ڈپوز میں پٹرولیم مصنوعات کا اسٹریٹجک ذخیرہ وافر مقدار میں موجود ہے جس سے ملکی ترسیلی نظام مکمل فعال ہے۔ پی ایس او سمیت تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیاں شیڈول کے مطابق پٹرولیم پہنچا رہی ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق ایندھن کے نرخوں میں استحکام سے پبلک ٹرانسپورٹ اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور اوگرا کی ٹیمیں پٹرول پمپس پر انسپکشنز کر رہی ہیں۔
اوگرا نے تمام پٹرول پمپ مالکان کو خبردار کیا ہے کہ پیمانوں میں کمی یا مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔
معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایندھن کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی سپلائی چین پر پڑتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں، زرعی ٹیوب ویلوں اور صنعتی کارخانوں کے پیداواری اخراجات کا تمام تر انحصار پٹرولیم مصنوعات پر ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی افراط زر کی مجموعی شرح کو متاثر کرتی ہے، جس سے عام شہری کی قوت خرید اور کاروباری اداروں کا بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
