پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم نے ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے کیونکہ نمایاں الیکٹرانک منی اداروں (EMIs) سادہ پے اور نیا پے کے فعال ڈیجیٹل صارفین کی تعداد مشترکہ طور پر ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ڈیجیٹل والٹس کے وسیع پیمانے پر استعمال نے عام دکانداروں، بلوں کی ادائیگی اور فری لانسنگ کمائی کی منتقلی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے راست نظام کے تعاون سے کیو آر کوڈ اور پی ٹو پی ادائیگیاں اب ملک بھر کے چھوٹے بڑے اسٹورز پر عام ہو چکی ہیں۔ آئی ٹی ایکسپورٹرز اور سافٹ ویئر انجینئرز کے لیے بیرون ملک سے ڈالرز کی وصولی اب چند سیکنڈز میں بغیر کسی کٹوتی کے ممکن ہے۔ وینچر کیپیٹل فنڈز ایک بار پھر پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی انفراسٹرکچر میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں پاکستان ڈیجیٹل فنانس اور فری لانسنگ کے شعبے میں خطے کے سرکردہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوا ہے۔ بین الاقوامی کلائنٹس سے فنڈز کی تیز رفتار وصولی اور زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے جدید مالیاتی راستے نوجوان آئی ٹی ماہرین میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین معاشیات صارفین کو متنبہ کرتے ہیں کہ کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لین دین سے قبل سیکیورٹی اور تصدیق کے تمام معیارات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اسٹیٹ بینک اور ریگولیٹری ادارے بھی مالیاتی تحفظ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مستقل ہدایات جاری کرتے رہتے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے ایک واضح قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے تو اس سے نہ صرف لاکھوں فری لانسرز کے اثاثوں کو قانونی تحفظ ملے گا بلکہ ملکی ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
