اوپن اے آئی نے باضابطہ طور پر 'او ون' (o1) ریزننگ ماڈل لانچ کر دیا ہے جو سوال کا جواب دینے سے پہلے گہرائی سے سوچتا ہے۔ روایتی ماڈلز جہاں فوری جواب میں غلطیاں کر دیتے تھے، وہاں او ون تمام امکانات کا جائزہ لے کر انتہائی درست حل پیش کرتا ہے۔
اس ماڈل نے کمپیوٹر پروگرامنگ کے بین الاقوامی مقابلوں میں ٹاپ 10 فیصد ماہر انسانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جبکہ جی پی ٹی 4o لائیو کیمرے اور آواز کے ذریعے اردو اور انگریزی دونوں میں بلاتعطل گفتگو کر سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں کاروبار اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI)، اسمارٹ فونز اور جدید سافٹ ویئر سلوشنز نے انسان کے کام کرنے کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری میں ان جدید ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی بدولت مقامی کمپنیاں بین الاقوامی کلائنٹس کو کم وقت میں معیاری خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ادارے جدید ٹیکنالوجی کو وقت پر اپنائیں گے وہ مستقبل میں معاشی میدان کے لیڈر ہوں گے۔
تعلیمی اور پیشہ ورانہ حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید ترین ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا سکیں اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما سکیں۔
