وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اگنائٹ کے تعاون سے چلنے والے نیشنل انکیوبیشن سینٹر (NIC) کے نیٹ ورک نے اپنے سب سے بڑے گریجویشن شوکیس کا انعقاد کیا۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے 150 اسٹارٹ اپس نے اپنے پروجیکٹس پیش کیے۔
زرعی شعبے میں پانی کی بچت کے اسمارٹ سینسرز سے لے کر دیہی علاقوں میں بیماریوں کی فوری تشخیص کے لیے اے آئی پلیٹ فارمز تک، نوجوان پاکستانی انجینئرز قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حکومت نے تصدیق شدہ اسٹارٹ اپس کے لیے ابتدائی سالوں میں ٹیکس چھوٹ جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔
معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایندھن کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی سپلائی چین پر پڑتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں، زرعی ٹیوب ویلوں اور صنعتی کارخانوں کے پیداواری اخراجات کا تمام تر انحصار پٹرولیم مصنوعات پر ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی افراط زر کی مجموعی شرح کو متاثر کرتی ہے، جس سے عام شہری کی قوت خرید اور کاروباری اداروں کا بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں، خلیجی خطے کی صورتحال اور امریکی ڈالر کی قدر مقامی قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارت توانائی باقاعدگی سے درآمدی اخراجات کا جائزہ لے کر ملک میں پیٹرولیم کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے اقدامات کرتے ہیں تاکہ ترسیل میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو۔
مستقبل کے حوالے سے ماہرین توانائی کا مشورہ ہے کہ درآمدی بل پر دباؤ کم کرنے کے لیے مقامی ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور ماحول دوست الیکٹرک ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ملکی معیشت کے استحکام اور صارفین کے تحفظ کے لیے طویل مدتی توانائی کی حکمت عملی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔