براہ راست
Bitcoin (BTC)Rs. 18,650,000 +1.2%
Ethereum (ETH)Rs. 995,000 +0.8%
USDT/PKRRs. 282.50 +0.1%
Gold (24K)Rs. 450,200 +0.4%
USD/PKRRs. 278.20 -0.1%
PetrolRs. 387.54 -0.38%
BREAKINGGold (24K): Rs. 450,200 (+1.2%)
BREAKINGPetrol: Rs. 387.54 (PSO Notified Rate)
BREAKINGKSE-100 Index: 82,450 (+0.5%)
BREAKINGSBP Foreign Exchange Reserves Cross $11.2 Billion Amid Steady Inflows
BREAKINGPakistan IT and Telecom Export Remittances Surge 28% Year-on-Year
BREAKINGPakistan Raises $250 Million Through First-Ever Panda Bond in Chinese Market
StartupsEditorial Desk

نیشنل انکیوبیشن سینٹر (این آئی سی) سے 150 جدید ٹیک اور کلین ٹیک اسٹارٹ اپس گریجویٹ

S
Syed Hamza (Tech Desk)
| 11:20 am • September 21, 2026|4 min read
National Incubation Center (NIC) Pakistan Graduates 150 DeepTech and CleanTech Startups
Startups • September 21, 2026

نیشنل انکیوبیشن سینٹر (این آئی سی) سے 150 جدید ٹیک اور کلین ٹیک اسٹارٹ اپس گریجویٹ — Pakistan Digital Coverage

خبر کے اہم نکات

  • 1
    اگنائٹ اور وزارت آئی ٹی کے تحت ملک کے 5 این آئی سی سینٹرز سے 150 باصلاحیت اسٹارٹ اپس فارغ التحصیل۔
  • 2
    گریجویٹ ہونے والی کمپنیوں نے 4,000 سے زائد ہائی اسکل ملازمتیں پیدا کیں اور 35 ملین ڈالر کے فنڈز اکٹھے کیے۔
  • 3
    اہم شعبوں میں زرعی ٹیکنالوجی، الیکٹرک وہیکلز، ہیلتھ کیئر اے آئی اور سولر سسٹمز شامل ہیں۔
  • 4
    خواتین انٹرپرینیورز کے لیے خصوصی گرانٹس اور ایکویٹی میچنگ فنڈز کی فراہمی کا اعلان۔
  • 5
    پاکستانی بانیوں کو برلن اور ٹوکیو کے وینچر کیپیٹل نیٹ ورکس سے جوڑنے کے لیے نئے معاہدے طے پا گئے۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اگنائٹ کے تعاون سے چلنے والے نیشنل انکیوبیشن سینٹر (NIC) کے نیٹ ورک نے اپنے سب سے بڑے گریجویشن شوکیس کا انعقاد کیا۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے 150 اسٹارٹ اپس نے اپنے پروجیکٹس پیش کیے۔

زرعی شعبے میں پانی کی بچت کے اسمارٹ سینسرز سے لے کر دیہی علاقوں میں بیماریوں کی فوری تشخیص کے لیے اے آئی پلیٹ فارمز تک، نوجوان پاکستانی انجینئرز قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حکومت نے تصدیق شدہ اسٹارٹ اپس کے لیے ابتدائی سالوں میں ٹیکس چھوٹ جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔

معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایندھن کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی سپلائی چین پر پڑتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں، زرعی ٹیوب ویلوں اور صنعتی کارخانوں کے پیداواری اخراجات کا تمام تر انحصار پٹرولیم مصنوعات پر ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی افراط زر کی مجموعی شرح کو متاثر کرتی ہے، جس سے عام شہری کی قوت خرید اور کاروباری اداروں کا بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں، خلیجی خطے کی صورتحال اور امریکی ڈالر کی قدر مقامی قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارت توانائی باقاعدگی سے درآمدی اخراجات کا جائزہ لے کر ملک میں پیٹرولیم کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے اقدامات کرتے ہیں تاکہ ترسیل میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو۔

مستقبل کے حوالے سے ماہرین توانائی کا مشورہ ہے کہ درآمدی بل پر دباؤ کم کرنے کے لیے مقامی ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور ماحول دوست الیکٹرک ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ملکی معیشت کے استحکام اور صارفین کے تحفظ کے لیے طویل مدتی توانائی کی حکمت عملی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔