اسلام آباد میں قائم جنریٹو اے آئی اسٹارٹ اپ مارخور اے آئی نے 8 ملین ڈالر کی زبردست سیڈ فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ یہ راؤنڈ سلیکون ویلی اور دبئی کے نمایاں وینچر کیپیٹل فنڈز کی سربراہی میں مکمل کیا گیا، جو 2026 میں پاکستانی سافٹ ویئر اسٹارٹ اپس کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔
یہ اسٹارٹ اپ بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے نجی اور محفوظ اے آئی ماڈلز تیار کرتا ہے جن کا ڈیٹا کسی بیرونی سرور پر منتقل نہیں ہوتا۔ کمپنی اس سرمائے سے اسلام آباد ریسرچ لیب کو وسعت دے گی اور خلیجی ممالک میں اپنے سسٹمز فراہم کرے گی۔
ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں کاروبار اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI)، اسمارٹ فونز اور جدید سافٹ ویئر سلوشنز نے انسان کے کام کرنے کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری میں ان جدید ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی بدولت مقامی کمپنیاں بین الاقوامی کلائنٹس کو کم وقت میں معیاری خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ادارے جدید ٹیکنالوجی کو وقت پر اپنائیں گے وہ مستقبل میں معاشی میدان کے لیڈر ہوں گے۔
تعلیمی اور پیشہ ورانہ حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید ترین ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا سکیں اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما سکیں۔