براہ راست
Bitcoin (BTC)Rs. 18,650,000 +1.2%
Ethereum (ETH)Rs. 995,000 +0.8%
USDT/PKRRs. 282.50 +0.1%
Gold (24K)Rs. 450,200 +0.4%
USD/PKRRs. 278.20 -0.1%
PetrolRs. 387.54 -0.38%
BREAKINGGold (24K): Rs. 450,200 (+1.2%)
BREAKINGPetrol: Rs. 387.54 (PSO Notified Rate)
BREAKINGKSE-100 Index: 82,450 (+0.5%)
BREAKINGSBP Foreign Exchange Reserves Cross $11.2 Billion Amid Steady Inflows
BREAKINGPakistan IT and Telecom Export Remittances Surge 28% Year-on-Year
BREAKINGPakistan Raises $250 Million Through First-Ever Panda Bond in Chinese Market
StartupsEditorial Desk

حابال اور فنجا نے بی ٹو بی سپلائی چین ڈیجیٹل انوائسنگ میں 6 کھرب روپے کی ادائیگیاں پروسیس کر لیں

T
Taimoor Khan (Corporate Fintech)
| 11:15 am • September 22, 2026|5 min read
Haball and Finja Process Rs. 600 Billion in B2B Supply Chain Digital Invoicing and Automated Tax Collections
Startups • September 22, 2026

حابال اور فنجا نے بی ٹو بی سپلائی چین ڈیجیٹل انوائسنگ میں 6 کھرب روپے کی ادائیگیاں پروسیس کر لیں — Pakistan Digital Coverage

خبر کے اہم نکات

  • 1
    کارپوریٹ بی ٹو بی ادائیگیاں پروسیس کرنے والے پلیٹ فارم حابال نے 6 کھرب روپے کا سنگ میل عبور کر لیا۔
  • 2
    ایف بی آر کے ڈیجیٹل انوائسنگ پورٹل کے ساتھ براہ راست سسٹم انٹیگریشن سے ٹیکس کٹوتی خودکار ہو گئی۔
  • 3
    75 ہزار سے زائد ڈسٹری بیوٹرز اور ڈیلرز اب مینوفیکچررز کو نقد رقم یا چیک کے بجائے فوری ڈیجیٹل ادائیگی کرتے ہیں۔
  • 4
    انوائس کی ادائیگی میں لگنے والا روایتی 14 دن کا وقت کم ہو کر صرف 30 سیکنڈ رہ گیا۔

کارپوریٹ فن ٹیک حابال اور فنجا نے 600 ارب روپے سے زائد کی کارپوریٹ ادائیگیاں ڈیجیٹل طور پر پروسیس کی ہیں، جس سے پاکستانی صنعتوں میں کیش اور دستی چیکس کا استعمال ختم ہو رہا ہے۔ ایف بی آر کے ساتھ جڑے اس نظام کی بدولت ٹیکس دستاویزات بھی فوری تیار ہو جاتی ہیں۔

ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں کاروبار اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI)، اسمارٹ فونز اور جدید سافٹ ویئر سلوشنز نے انسان کے کام کرنے کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔

پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری میں ان جدید ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی بدولت مقامی کمپنیاں بین الاقوامی کلائنٹس کو کم وقت میں معیاری خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ادارے جدید ٹیکنالوجی کو وقت پر اپنائیں گے وہ مستقبل میں معاشی میدان کے لیڈر ہوں گے۔

تعلیمی اور پیشہ ورانہ حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید ترین ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا سکیں اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما سکیں۔