براہ راست
Bitcoin (BTC)Rs. 18,650,000 +1.2%
Ethereum (ETH)Rs. 995,000 +0.8%
USDT/PKRRs. 282.50 +0.1%
Gold (24K)Rs. 450,200 +0.4%
USD/PKRRs. 278.20 -0.1%
PetrolRs. 387.54 -0.38%
BREAKINGGold (24K): Rs. 450,200 (+1.2%)
BREAKINGPetrol: Rs. 387.54 (PSO Notified Rate)
BREAKINGKSE-100 Index: 82,450 (+0.5%)
BREAKINGSBP Foreign Exchange Reserves Cross $11.2 Billion Amid Steady Inflows
BREAKINGPakistan IT and Telecom Export Remittances Surge 28% Year-on-Year
BREAKINGPakistan Raises $250 Million Through First-Ever Panda Bond in Chinese Market
Govt SchemesEditorial Desk

وفاقی یوٹیلیٹی اسٹورز ریلیف پیکیج 2026: آٹا، گھی، چینی اور دالوں پر شناختی کارڈ کے ذریعے 25 فیصد ٹارگٹڈ سبسڈی

B
Bilal Hussain (Economic Desk)
| 9:15 am • September 23, 2026|5 min read
Federal Utility Stores Relief Package 2026: Targeted 25% Subsidy on Atta, Ghee, Sugar, and Pulses via CNIC
Govt Schemes • September 23, 2026

وفاقی یوٹیلیٹی اسٹورز ریلیف پیکیج 2026: آٹا، گھی، چینی اور دالوں پر شناختی کارڈ کے ذریعے 25 فیصد ٹارگٹڈ سبسڈی — Pakistan Digital Coverage

خبر کے اہم نکات

  • 1
    ملک بھر کے 4000 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز پر بنیادی اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں زبردست ریلیف کا اعلان۔
  • 2
    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) میں رجسٹرڈ خاندانوں کو آٹا، گھی، چینی اور دالوں پر 25 سے 30 فیصد رعایت۔
  • 3
    10 کلو آٹے کا تھیلا 648 روپے، گھی 380 روپے فی کلو اور چینی 110 روپے فی کلو میں دستیاب۔
  • 4
    بائیو میٹرک تصدیق سے راشن کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کا مکمل خاتمہ۔
  • 5
    ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد مستحق خاندانوں کو مہنگائی کے اثرات سے براہ راست ریلیف۔

وفاقی حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر مستحق افراد کے لیے آٹا، گھی اور چینی پر 25 سے 30 فیصد ٹارگٹڈ سبسڈی کا نفاذ کر دیا ہے۔ بی آئی ایس پی میں رجسٹرڈ خاندان اپنے شناختی کارڈ پر ایس ایم ایس کے ذریعے تصدیق کے بعد رعایتی نرخوں پر راشن حاصل کر سکتے ہیں۔

معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایندھن کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی سپلائی چین پر پڑتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں، زرعی ٹیوب ویلوں اور صنعتی کارخانوں کے پیداواری اخراجات کا تمام تر انحصار پٹرولیم مصنوعات پر ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی افراط زر کی مجموعی شرح کو متاثر کرتی ہے، جس سے عام شہری کی قوت خرید اور کاروباری اداروں کا بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں، خلیجی خطے کی صورتحال اور امریکی ڈالر کی قدر مقامی قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارت توانائی باقاعدگی سے درآمدی اخراجات کا جائزہ لے کر ملک میں پیٹرولیم کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے اقدامات کرتے ہیں تاکہ ترسیل میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو۔

مستقبل کے حوالے سے ماہرین توانائی کا مشورہ ہے کہ درآمدی بل پر دباؤ کم کرنے کے لیے مقامی ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور ماحول دوست الیکٹرک ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ملکی معیشت کے استحکام اور صارفین کے تحفظ کے لیے طویل مدتی توانائی کی حکمت عملی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔