پاکستانی زرعی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ فارم دار نے ملک بھر میں 10 لاکھ ایکڑ رقبے پر سیٹلائٹ کے ذریعے فصلوں کی نگرانی کا نظام نافذ کر دیا ہے۔ اس سسٹم کی بدولت کسانوں کو اپنے موبائل پر فصل کی بیماریوں اور کھاد کی ضروریات کا علم بروقت ہو جاتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق عصر حاضر میں دفاعی ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن اور باہمی تعاون ملکی سالمیت اور علاقائی توازن کے لیے ناگزیر ہے۔ جدید ریڈار سسٹمز، سائبر سیکیورٹی نیٹ ورکس اور جدید ترین دفاعی آلات سے لیس ہونا افواج کے لیے دور جدید کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا واحد راستہ ہے۔
دفاعی شراکت داری نہ صرف جدید سازوسامان کی فراہمی میں مدد دیتی ہے بلکہ ملکی انجینئرز اور سائنسدانوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر تحقیق اور تجربات کے نئے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ اعلیٰ عسکری قیادت ہمیشہ سے خود انحصاری اور ملکی سطح پر دفاعی پیداوار کو فروغ دینے کی حکمت عملی پر زور دیتی رہی ہے۔
دفاعی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں امن کے قیام اور بیرونی خطرات کے تدارک کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ تربیت کا تسلسل انتہائی اہمیت رکھتا ہے، جس سے سرحدوں کی حفاظت مزید فولادی بنائی جا سکتی ہے۔