ایجوکیشن فن ٹیک اسٹارٹ اپ ایڈو فائی نے 2.4 ارب روپے کے بلاسود تعلیمی فنانسنگ کی تقسیم مکمل کر لی ہے، جس سے پاکستان کے ہزاروں متوسط طبقے کے طلباء کے لیے اعلیٰ یونیورسٹیوں میں تعلیم کے دروازے کھل گئے ہیں۔
یہ پلیٹ فارم یونیورسٹیوں کو طلباء کی فیس فوری ادا کرتا ہے اور خاندانوں کو آسان ماہانہ اقساط میں ادائیگی کی اجازت دیتا ہے، جس سے ذہین طلباء فیس نہ ہونے کے باعث تعلیم چھوڑنے سے محفوظ رہتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں پاکستان ڈیجیٹل فنانس اور فری لانسنگ کے شعبے میں خطے کے سرکردہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوا ہے۔ بین الاقوامی کلائنٹس سے فنڈز کی تیز رفتار وصولی اور زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے جدید مالیاتی راستے نوجوان آئی ٹی ماہرین میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین معاشیات صارفین کو متنبہ کرتے ہیں کہ کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لین دین سے قبل سیکیورٹی اور تصدیق کے تمام معیارات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اسٹیٹ بینک اور ریگولیٹری ادارے بھی مالیاتی تحفظ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مستقل ہدایات جاری کرتے رہتے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے ایک واضح قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے تو اس سے نہ صرف لاکھوں فری لانسرز کے اثاثوں کو قانونی تحفظ ملے گا بلکہ ملکی ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔