پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے ایک بڑی پیش رفت کے تحت بی ٹو بی اسٹارٹ اپ دستگیر نے عالمی انویسٹمنٹ فرم سیڈ اسٹارز کے ساتھ مل کر 10 ملین ڈالر کا ایگری سپلائی چین فنڈ شروع کیا ہے۔ اس فنڈ کا مقصد ایسے اسٹارٹ اپس کی مدد کرنا ہے جو جدید کولڈ اسٹوریج اور کسانوں کے لیے سمارٹ ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔
کسانوں کو فصل کی کٹائی کے بعد منڈی کے آڑھتیوں کے ہاتھوں لٹنے سے بچانے کے لیے یہ ڈیجیٹل نظام براہ راست ملوں اور بڑے ریٹیلرز کے ساتھ کسان کو جوڑتا ہے، جس سے فصل کا ضیاع کم ہوتا ہے اور کسان کو اس کی محنت کا مکمل اور فوری معاوضہ ملتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں کاروبار اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI)، اسمارٹ فونز اور جدید سافٹ ویئر سلوشنز نے انسان کے کام کرنے کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری میں ان جدید ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی بدولت مقامی کمپنیاں بین الاقوامی کلائنٹس کو کم وقت میں معیاری خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ادارے جدید ٹیکنالوجی کو وقت پر اپنائیں گے وہ مستقبل میں معاشی میدان کے لیڈر ہوں گے۔
تعلیمی اور پیشہ ورانہ حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید ترین ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا سکیں اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما سکیں۔