پاکستان کے معروف ہول سیل پلیٹ فارم دستگیر نے باضابطہ طور پر اپنا کراس بارڈر ایکسپورٹ ڈویژن شروع کیا ہے، جس سے فیصل آباد کے ٹیکسٹائل اور سیالکوٹ کے سرجیکل مینوفیکچررز کو براہ راست سعودی عرب کے ہول سیلرز کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔
اس اقدام سے نہ صرف روایتی مڈل مین کا کردار ختم ہو جائے گا بلکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو بروقت ادائیگیاں اور شفاف معاہدے میسر آئیں گے، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں کاروبار اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI)، اسمارٹ فونز اور جدید سافٹ ویئر سلوشنز نے انسان کے کام کرنے کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری میں ان جدید ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی بدولت مقامی کمپنیاں بین الاقوامی کلائنٹس کو کم وقت میں معیاری خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ادارے جدید ٹیکنالوجی کو وقت پر اپنائیں گے وہ مستقبل میں معاشی میدان کے لیڈر ہوں گے۔
تعلیمی اور پیشہ ورانہ حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید ترین ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا سکیں اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما سکیں۔