اینتھروپک کے جدید ترین ماڈل 'کلاؤڈ 3.5' نے دنیا بھر کے پروگرامرز اور سافٹ ویئر انجینئرز میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ کوڈنگ اور سسٹم ڈیولپمنٹ کے ٹیسٹوں میں اس ماڈل نے اوپن اے آئی کے تمام ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
کلاؤڈ کا 'آرٹی فیکٹس' فیچر ڈویلپرز کو چیٹ ونڈو کے اندر ہی لائیو ویب سائٹ اور ایپلی کیشن کوڈ چلا کر دکھاتا ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری اور فری لانس ڈویلپرز کے لیے یہ ٹول پیداواری صلاحیت کو دوگنا کرنے کا بہترین ذریعہ بن چکا ہے۔
ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں کاروبار اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI)، اسمارٹ فونز اور جدید سافٹ ویئر سلوشنز نے انسان کے کام کرنے کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری میں ان جدید ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی بدولت مقامی کمپنیاں بین الاقوامی کلائنٹس کو کم وقت میں معیاری خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ادارے جدید ٹیکنالوجی کو وقت پر اپنائیں گے وہ مستقبل میں معاشی میدان کے لیڈر ہوں گے۔
تعلیمی اور پیشہ ورانہ حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید ترین ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا سکیں اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما سکیں۔
