ستمبر 2026 میں عالمی کرپٹو مارکیٹ میں شاندار تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں بٹ کوائن نے 65 ہزار ڈالر کی نفسیاتی حد کامیابی سے عبور کر لی۔ بین الاقوامی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی اور اسپاٹ ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری کے بہاؤ نے مارکیٹ کو مضبوط سہارا فراہم کیا۔
پاکستان میں بائنانس اور دیگر بڑے پلیٹ فارمز پر پی ٹو پی والیوم میں 35 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی ماہرین نے ٹریڈرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ اچانک تیزی میں ہائی لیوریج فیوچرز کے بجائے اسپاٹ اور طویل مدتی سرمایہ کاری کا طریقہ کار اپنائیں تاکہ ممکنہ اتار چڑھاؤ کے نقصانات سے بچا جا سکے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان ڈیجیٹل فنانس اور فری لانسنگ کے شعبے میں خطے کے سرکردہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوا ہے۔ بین الاقوامی کلائنٹس سے فنڈز کی تیز رفتار وصولی اور زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے جدید مالیاتی راستے نوجوان آئی ٹی ماہرین میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین معاشیات صارفین کو متنبہ کرتے ہیں کہ کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لین دین سے قبل سیکیورٹی اور تصدیق کے تمام معیارات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اسٹیٹ بینک اور ریگولیٹری ادارے بھی مالیاتی تحفظ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مستقل ہدایات جاری کرتے رہتے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے ایک واضح قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے تو اس سے نہ صرف لاکھوں فری لانسرز کے اثاثوں کو قانونی تحفظ ملے گا بلکہ ملکی ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
