پاکستان میں کریانہ اور گروسری کا روایتی ہول سیل کاروبار ڈیجیٹل بی ٹو بی اسٹارٹ اپس کی بدولت جدید ترین دور میں داخل ہو چکا ہے۔ بازار اور ریٹیلو جیسے پلیٹ فارمز نے چھوٹے کریانہ دکانداروں کو براہ راست فیکٹریوں اور ملوں سے جوڑ دیا ہے۔
اب دکانداروں کو ہول سیل مارکیٹ کے دھکے کھانے کے بجائے رات کو ایپ پر آرڈر دینے اور صبح دکان پر سامان وصول کرنے کی سہولت میسر ہے۔ اس کے ساتھ ڈیجیٹل کھاتہ اور بلاسود ادھار نے چھوٹے دکانداروں کی زندگی انتہائی آسان بنا دی ہے۔
معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایندھن کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی سپلائی چین پر پڑتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں، زرعی ٹیوب ویلوں اور صنعتی کارخانوں کے پیداواری اخراجات کا تمام تر انحصار پٹرولیم مصنوعات پر ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی افراط زر کی مجموعی شرح کو متاثر کرتی ہے، جس سے عام شہری کی قوت خرید اور کاروباری اداروں کا بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں، خلیجی خطے کی صورتحال اور امریکی ڈالر کی قدر مقامی قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارت توانائی باقاعدگی سے درآمدی اخراجات کا جائزہ لے کر ملک میں پیٹرولیم کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے اقدامات کرتے ہیں تاکہ ترسیل میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو۔
مستقبل کے حوالے سے ماہرین توانائی کا مشورہ ہے کہ درآمدی بل پر دباؤ کم کرنے کے لیے مقامی ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور ماحول دوست الیکٹرک ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ملکی معیشت کے استحکام اور صارفین کے تحفظ کے لیے طویل مدتی توانائی کی حکمت عملی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
