براہ راست
Bitcoin (BTC)Rs. 18,650,000 +1.2%
Ethereum (ETH)Rs. 995,000 +0.8%
USDT/PKRRs. 282.50 +0.1%
Gold (24K)Rs. 450,200 +0.4%
USD/PKRRs. 278.20 -0.1%
PetrolRs. 387.54 -0.38%
BREAKINGGold (24K): Rs. 450,200 (+1.2%)
BREAKINGPetrol: Rs. 387.54 (PSO Notified Rate)
BREAKINGKSE-100 Index: 82,450 (+0.5%)
BREAKINGSBP Foreign Exchange Reserves Cross $11.2 Billion Amid Steady Inflows
BREAKINGPakistan IT and Telecom Export Remittances Surge 28% Year-on-Year
BREAKINGPakistan Raises $250 Million Through First-Ever Panda Bond in Chinese Market
Govt SchemesEditorial Desk

اپنی چھت اپنا گھر ہاؤسنگ سکیم 2026: گھر کی تعمیر کے لیے 15 لاکھ روپے تک بلا سود قرضے

E
Editorial Staff
| 03:15 pm • September 22, 2026|5 min read
Apni Chhat Apna Ghar Housing Scheme 2026: Interest-Free Loans up to 15 Lakh for Home Construction
Govt Schemes • September 22, 2026

اپنی چھت اپنا گھر ہاؤسنگ سکیم 2026: گھر کی تعمیر کے لیے 15 لاکھ روپے تک بلا سود قرضے — Pakistan Digital Coverage

خبر کے اہم نکات

  • 1
    اپنی ملکیت والے رہائشی پلاٹ پر گھر کی تعمیر کے لیے 15 لاکھ روپے تک بلا سود قرض حسنہ۔
  • 2
    پلاٹ سائز کی اہلیت: شہری علاقوں میں 5 مرلہ تک اور دیہی علاقوں میں 10 مرلہ تک رقبہ۔
  • 3
    7 سالہ آسان واپسی مدت کے دوران ماہانہ قسط صرف 14,000 روپے سے شروع۔
  • 4
    کوئی پروسیسنگ فیس نہیں اور کوئی پوشیدہ بینک مارک اپ نہیں؛ تمام اخراجات پنجاب حکومت ادا کرے گی۔
  • 5
    شہری باضابطہ پورٹل (acag.punjab.gov.pk) یا بینک آف پنجاب کی کسی بھی برانچ کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا تاریخی اقدام 'اپنی چھت اپنا گھر سکیم' جس کے تحت 5 مرلہ شہری یا 10 مرلہ دیہی پلاٹ کے مالکان کو مکان کی تعمیر کے لیے 15 لاکھ روپے کا بلا سود قرضہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کی واپسی 7 سال کے دوران انتہائی آسان ماہانہ اقساط میں کی جا سکے گی۔

ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں کاروبار اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI)، اسمارٹ فونز اور جدید سافٹ ویئر سلوشنز نے انسان کے کام کرنے کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔

پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری میں ان جدید ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی بدولت مقامی کمپنیاں بین الاقوامی کلائنٹس کو کم وقت میں معیاری خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ادارے جدید ٹیکنالوجی کو وقت پر اپنائیں گے وہ مستقبل میں معاشی میدان کے لیڈر ہوں گے۔

تعلیمی اور پیشہ ورانہ حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید ترین ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا سکیں اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما سکیں۔