پاکستان کی فری لانسنگ مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں ڈیجیٹل اسٹیبل کوائنز (خاص طور پر USDT) کا استعمال بے پناہ مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ روایتی بینکنگ نظام میں بیرون ملک سے رقم منگوانے پر کئی دن لگتے ہیں اور بینک کی بھاری کٹوتی ہوتی ہے، جبکہ کرپٹو نیٹ ورک پر چند سیکنڈ میں پورا معاوضہ موصول ہو جاتا ہے۔
مہنگائی اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے دور میں اپنی محنت کی کمائی کو محفوظ رکھنے کے لیے آئی ٹی ایکسپورٹرز اس طریقہ کار کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔
تاہم ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ فری لانسرز جب بھی اپنے اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کریں تو اپنے انکم ٹیکس ریٹرنز میں اس کو باقاعدہ آئی ٹی ایکسپورٹ آمدنی کے طور پر ظاہر کریں تاکہ کسی بھی قسم کے آڈٹ نوٹس یا اکاؤنٹ بلاک ہونے کا خدشہ نہ رہے۔