دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو ایکسچینج بائننس (Binance) اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر سیکیورٹی کے حالیہ خدشات اور مبینہ ہیکنگ کے واقعات کے بعد پاکستانی ٹیک رہنماؤں اور ویب تھری ماہرین نے ملک میں کرپٹو سرمایہ کاروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری طور پر ایک **متفقہ نمائندہ باڈی** بنانے کی پرزور اپیل کی ہے۔
ایشیا ویب تھری الائنس کی صدر **حنزہ آصف** اور دیگر ڈیجیٹل فنانس ماہرین نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی مکالمے کے دوران اس ضرورت پر روشنی ڈالی۔
### پاکستان میں کرپٹو اثاثوں کا ہوشربا حجم
ماہرین کے مطابق پاکستان اب اس تیزی سے بڑھتے ہوئے مالیاتی شعبے کو نظر انداز نہیں کر سکتا:
- **دنیا میں تیسرا بڑا ملک:** چینالیسس (Chainalysis) کے عالمی کرپٹو ایڈاپشن انڈیکس کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں کرپٹو اپنانے والا **تیسرا بڑا ملک** ہے۔ - **10 سے 20 ارب ڈالر کا حجم:** غیر سرکاری تخمینوں کے مطابق پاکستانی شہریوں اور فری لانسرز کے 10 سے 20 ارب ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثے غیر ملکی والٹس میں موجود ہیں اور 4 کروڑ سے زائد اکاؤنٹس فعال ہیں۔ - **قانونی تحفظ کا فقدان:** جب کسی غیر ملکی ایکسچینج میں ہیکنگ ہوتی ہے یا رقم ڈوبتی ہے تو پاکستانی شہریوں کے پاس کوئی مقامی فورم موجود نہیں ہوتا جہاں وہ قانونی چارہ جوئی کر سکیں۔
### مجوزہ باڈی کے بنیادی مقاصد
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خودمختار تنظیم حکومت کی نوزائیدہ ریگولیٹری باڈی (PVARA) اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر کام کرے گی: 1. **شکایات کا ازالہ:** پی ٹو پی (P2P) فراڈ یا اکاؤنٹس بلاک ہونے کی صورت میں مسافروں اور سرمایہ کاروں کی قانونی مدد۔ 2. **سائبر سیکیورٹی آگاہی:** فیک اسکیموں، پونزی اسکیمز اور ٹیلی گرام بوٹس کے ذریعے عوام کو لوٹنے سے بچانے کے لیے آگاہی مہمات۔ 3. **ایف اے ٹی ایف (FATF) کے مطابق فریم ورک:** ملک کے اندر قانونی اور ٹیکس نیٹ کے تحت کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے حکومتی پالیسی سازی میں مدد۔
