قومی معاشی سروے کے مطابق پاکستان میں فی کس آمدنی کے اعداد و شمار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود عام آدمی کے معاشی حالات اس اعداد و شمار سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے کیونکہ افراط زر اور مہنگائی نے حقیقی قوت خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کاغذی آمدنی میں اضافہ ہونے کے باوجود بجلی کے بلوں، گیس کے ٹیرف اور روزمرہ اشیاء خوردونوش کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے تنخواہ دار طبقے کا بجٹ درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ آمدنی کا ایک بڑا حصہ صرف بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے پر خرچ ہو جاتا ہے۔
نجی شعبے میں تنخواہوں میں ہونے والا اضافہ افراط زر کے مقابلے میں بہت کم رہا ہے جس کی وجہ سے متوسط طبقہ مالی دباؤ کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق جب تک ملک میں پیداواری صلاحیت نہیں بڑھائی جاتی، زرعی اجناس کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کیا جاتا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع نہیں کیا جاتا، تب تک عام شہری کے معیار زندگی میں حقیقی بہتری نہیں لائی جا سکتی۔