پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں زبردست کاروباری تیزی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 74,250 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق انڈیکس میں +0.4% کی تبدیلی دیکھی گئی، جس کی بنیادی وجہ اداروں کی جانب سے کی جانے والی بڑے پیمانے پر خریداری اور مثبت معاشی اشاریے ہیں۔ مارکیٹ میں حصص کی خرید و فروخت کا حجم نمایاں رہا اور بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں سرمایہ کاروں نے گہری دلچسپی ظاہر کی۔ مقامی بروکریج ہاؤسز کے مطابق، مالیاتی ڈسپلن اور حکومتی پالیسیوں کا تسلسل سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ تیزی ماضی کی معاشی سستی کے بعد ایک زبردست واپسی کی علامت ہے۔ ٹریڈنگ سیشن کے آغاز سے ہی فارن انویسٹمنٹ اور لوکل فنڈز کی فعال خریداری نے انڈیکس کو بلندیوں پر پہنچایا۔
مارکیٹ میں تیزی کے اہم عوامل میں جاری معاشی اصلاحات، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کامیاب مذاکرات اور ملک میں افراط زر کی شرح میں بتدریج کمی شامل ہے۔ بینکنگ، سیمنٹ، فرٹیلائزر، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سب سے زیادہ کاروبار دیکھا گا۔ مقامی بروکریج ہاؤسز کے مطابق معاشی استحکام کی بدولت غیر ملکی سرمایہ کاروں اور مقامی اداروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، جو مارکیٹ کے طویل مدتی مستقبل کے لیے خوش آئند ہے۔ برآمدات میں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی جیسے عوامل نے مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس کے علاوہ ملکی قرضوں کی بروقت ادائیگی نے سرمایہ کاروں کے خدشات کو دور کیا ہے اور ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کے معاشی آؤٹ لک کو بہتر کیا گیا ہے۔
لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے شاندار سہ ماہی منافع جات اور ڈیویڈنڈ کے اعلانات نے بھی مارکیٹ کی تیزی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سے عام سرمایہ کار بھی متحرک ہو گئے ہیں اور وہ بینکوں میں بچت کھاتوں کے بجائے اسٹاک مارکیٹ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خام مال کی درآمد پر پابندیوں میں نرمی سے کارخانے چلنے لگے ہیں، جس سے صنعتی شعبے سے وابستہ کمپنیوں کی پیداوار اور منافع میں اضافہ ہوا ہے اور شیئر مارکیٹ پر اچھے اثرات پڑ رہے ہیں۔ بینکنگ، پاور جنریشن اور کیمیکلز کے شعبے حصص کے لین دین کے لحاظ سے سب سے آگے رہے، جس سے مارکیٹ میں وافر نقد دستیابی کا پتا چلتا ہے۔ ان شعبوں کی کارکردگی مستقبل میں بھی مستحکم رہنے کی امید ہے، خاص طور پر فرٹیلائزر اور آئل اینڈ گیس سیکٹر کے شیئرز میں طویل مدتی سرمایہ کاری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
حالیہ کاروباری تیزی کے باوجود معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں اس تیزی کو برقرار رکھنے کے لیے حکومتی پالیسیوں کے تسلسل اور سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ آنے والے بجٹ میں ٹیکسوں کی شرح اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں سے متعلق حکومتی فیصلے مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔ روپیہ مستحکم رہنے اور سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر نے بیرونی دباؤ کو کم کرنے میں مدد کی ہے۔ سیاسی غیر یقینی یا بیرونی امداد کے جائزے میں تاخیر اسٹاک مارکیٹ میں عارضی مندی کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے اصلاحات کا تسلسل ضروری ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے واضح حکمت عملی مارکیٹ کو کسی بھی بڑے جھٹکے سے بچا سکتی ہے۔ ایس ای سی پی (SECP) کی جانب سے مارکیٹ میں شفافیت اور ریگولیشنز کو مزید سخت کیا جا رہا ہے تاکہ چھوٹے سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
ادارتی سطح پر مقامی انشورنس کمپنیوں اور پنشن فنڈز کی جانب سے مارکیٹ میں مستقل سرمایہ کاری دیکھی جا رہی ہے۔ کافی عرصے کے بعد غیر ملکی اداروں کی جانب سے حصص کی خالص خریداری بھی ریکارڈ کی گئی ہے، جو گزشتہ ایک سال میں کی جانے والی معاشی اصلاحات کا اعتراف ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بڑی کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اب بھی کافی سستی ہیں، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے یہاں پر سرمایہ کاری کے شاندار مواقع موجود ہیں۔ یہ اداراتی سرمایہ کاری مارکیٹ کو عالمی معاشی اتار چڑھاؤ کے دوران سہارا فراہم کرتی ہے۔ نیشنل کلیئرنگ کمپنی (NCCPL) اور سینٹرل ڈپازٹری کمپنی (CDC) کے خودکار نظام نے ٹریڈز کے تصفیے کو انتہائی تیز رفتار اور محفوظ بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے معاشی اصلاحات کا سلسلہ اسی رفتار سے جاری رکھا تو کے ایس ای 100 انڈیکس نئی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔ تاہم، ماہرین نے سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں افزائش اور عالمی سود کی شرح جیسے عوامل پر بھی نظر رکھیں۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سرمائے کو ایک ہی شعبے میں لگانے کے بجائے مختلف شعبوں میں تقسیم کریں۔ عام سرمایہ کاروں کو افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے پیشہ ورانہ بروکریج رپورٹس کی بنیاد پر ہی لین دین کرنا چاہیے۔ پیشہ ورانہ مشورہ چھوٹے سرمایہ کاروں کے سرمائے کو نقصان سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جبکہ ٹیکس فائلر بننے سے منافع پر کیپٹل گینز ٹیکس (CGT) کی بچت بھی کی جا سکتی ہے۔ طویل مدتی سرمایہ کاری کا ہدف لے کر چلنا ہی سب سے بہترین حکمت عملی ہے جس سے مالیاتی ترقی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
