عوام کو پٹرول کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے **نیا پٹرول پرائسنگ فارمولا** نافذ کر دیا ہے جس کے تحت مقامی آئل ریفائنریز کے غیر معمولی منافع کو کنٹرول کر کے اس کا فائدہ صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔
پٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے تحت یہ فارمولا ابتدائی 30 روز کے لیے لاگو کیا گیا ہے۔
### نئے فارمولے کے اہم نکات اور اثرات
1. **ایکس ریفائنری قیمت کا انجماد:** ملک کے اندر کام کرنے والی تمام ریفائنریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت کو **7 مارچ 2026** کے ریٹ پر فکس رکھیں اور اس سے زیادہ اضافی چارجز وصول نہ کریں۔
2. **49 روپے فی لیٹر سرکاری اکاؤنٹ میں جمع:** حکومتی تخمینے کے مطابق ریفائنریز کا جو اضافی مارجن تقریباً **49 روپے فی لیٹر** بنتا تھا، اب ریفائنریز اسے اپنی جیب میں رکھنے کے بجائے حکومت کے پیٹرولیم لیوی اکاؤنٹ میں جمع کروانے کی پابند ہوں گی جس سے قومی خزانے میں اربوں روپے جمع ہوں گے۔
3. **عوام کو ریلیف کی منتقلی:** اس رقم کے ذریعے حکومت کے پاس یہ گنجائش پیدا ہوگی کہ وہ عام شہریوں سے وصول کیے جانے والے لیوی ٹیکس میں کمی کرے جس سے پٹرول پمپ پر پٹرول کے نرخ براہ راست کم ہو سکیں گے۔
4. **پی ایس او کے اصل اخراجات پر انحصار:** اب بین الاقوامی کاغذی ریٹس کے بجائے پی ایس او کے اصل امپورٹ کارگو کے ریٹس پر حساب کتاب کیا جائے گا اور ریفائنریز کو روزانہ کی بنیاد پر سیلز ریکارڈ اوگرا میں جمع کروانا ہوگا۔
