پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اہم تبدیلی دیکھا گیا ہے، جہاں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت Rs. 248,500 روپے پر بند ہوئی۔ مقامی صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق، گزشتہ سیشن کے مقابلے میں یہ قیمت +0.8% کی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے، جو عالمی مارکیٹ اور مقامی کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے عین مطابق ہے۔ یہ ریٹس آل پاکستان سپریم جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جس کے اثرات کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور ملتان سمیت تمام بڑے شہروں کی مارکیٹ پر یکساں طور پر مرتب ہوئے ہیں۔ یہ ریٹ اپ ڈیٹس صرافہ مارکیٹ کی روزمرہ کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلیوں کی عکاس ہیں اور ان کا براہ راست تعلق عالمی منڈی کی صورتحال اور ملکی معیشت کے دیگر عوامل سے ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مقامی طلب میں افزائش کی وجہ سے قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی صرافہ کمیٹیوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مارکیٹ میں سونے کی سپلائی فی الحال مستحکم ہے۔
پاکستان میں سونا ہمیشہ سے افراط زر کے خلاف ایک محفوظ ترین سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے۔ موجودہ معاشی چیلنجز اور روپے کی قدر میں کمی کے پیش نظر، سرمایہ کار اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے سونے کی خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے مقامی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود خالص سونے کی اینٹوں اور بسکٹوں کی مانگ مستحکم ہے۔ صرافہ بازار کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ درآمدی لاگت اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی دستیابی کو متوازن رکھنے کے لیے 0.5 فیصد کا مقامی پریمیم بدستور لاگو رہے گا۔ معاشی عدم استحکام اور افراط زر کے ادوار میں، روایتی کاغذی کرنسی کے مقابلے میں سونے کی قدر میں مستقل اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ متوسط اور امیر دونوں طبقوں میں یکساں مقبول ہے۔ سونا نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ ضرورت کے وقت فوری نقد رقم حاصل کرنے کا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔ بہت سے خاندان اپنی طویل مدتی بچت کو سونے کے بسکٹوں میں تبدیل کر رہے ہیں تاکہ روپے کی قدر میں کمی کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
عالمی منڈی میں سونے کی فی اونس قیمت مرکزی بینکوں کے سود کی شرح کے فیصلوں، عالمی اقتصادی رپورٹوں اور بین الاقوامی جغرافیائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ چونکہ پاکستان اپنی صرافہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی مارکیٹ میں ہونے والی معمولی سی تبدیلی بھی مقامی نرخوں پر فوری طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں دیگر کرنسیوں کی گرتی ہوئی ساکھ بھی بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمت بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔ عالمی سرمایہ کار غیر یقینی معاشی حالات میں اپنے سرمائے کو سونے میں منتقل کرتے ہیں، جس سے بین الاقوامی قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے اور اس کے براہ راست اثرات پاکستانی روپے میں سونے کی درآمدی قیمت پر پڑتے ہیں۔ بین الاقوامی نقل و حمل کے اخراجات میں تبدیلی بھی مقامی مارکیٹ کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بحیرہ عرب اور دیگر بحری راستوں میں پیدا ہونے والے لاجسٹک مسائل بھی سونے کے درآمدی پریمیم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کے ساتھ ساتھ 22 قیراط سونے کی قیمت میں بھی متناسب تبدیلی کی گئی ہے، جو عام طور پر زیورات کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ صرافہ ڈیلرز کے مطابق جہاں کاروباری حضرات اور بڑے سرمایہ کار بچت کے لیے 24 قیراط کی اینٹوں کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں شادی بیاہ کے سیزن کے باعث 22 قیراط کے زیورات کی مانگ بھی مارکیٹ میں مستحکم رہتی ہے۔ خریداروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی لین دین سے قبل اپنے شہر کی جیولرز ایسوسی ایشن کے آفیشل ریٹ لازمی چیک کریں۔ زیورات کی خریداری پر جیولرز کی جانب سے میکنگ چارجز اور ویسٹیج کے نام پر اضافی رقم وصول کی جاتی ہے، اس لیے صارفین کو مختلف دکانوں سے نرخوں کا موازنہ کرنے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کرنا چاہیے۔ خریداری کے وقت پکی رسید حاصل کرنا جس پر وزن اور خالص پن درج ہو، انتہائی ضروری ہے۔ صارفین کو ہمیشہ ہال مارک شدہ زیورات خریدنے کی ترجیح دینی چاہیے تاکہ خالص پن کی ضمانت مل سکے۔
مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کے ساتھ ساتھ چاندی (Chandi) کی قیمتوں میں بھی ہلکا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ چاندی کو روایتی طور پر سونے کا متبادل سمجھا جاتا ہے، اور یہ خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے یا چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔ عالمی منڈی میں چاندی کی قیمتوں کا دارومدار صنعتی طلب اور سرمایہ کاری دونوں پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمتیں بھی سونے کی طرز پر اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں۔ پاکستان میں روایتی دستکاری اور مخصوص مذہبی تہواروں پر چاندی کے زیورات اور برتنوں کی طلب میں اضافہ دیکھا جاتا ہے، جس سے مقامی مارکیٹ میں اس کے ریٹس متاثر ہوتے ہیں۔ گرین ٹیکنالوجی اور سولر پینلز میں چاندی کے بڑھتے ہوئے عالمی استعمال نے اس کی مستقبل کی قدر کو مزید مستحکم کیا ہے، جس سے یہ اب صرف آرائشی دھات نہیں رہی بلکہ ایک اہم صنعتی اثاثہ بھی بن چکی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال اور افراط زر برقرار رہے گا، سونے کی قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ جاری رہے گا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی، درآمدی قوانین اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی کارکردگی آنے والے دنوں میں سونے کے نرخوں کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھیں اور جلد بازی میں فیصلے کرنے سے گریز کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی مارکیٹ میں طویل مدتی سرمایہ کاری ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے، بشرطیکہ سرمایہ کاری کسی مستند اور لائسنس یافتہ صرافہ ڈیلر کے ذریعے کی گئی ہو۔ معیشت میں کسی بھی قسم کا مثبت معاشی پیکیج یا روپے کی بحالی سونے کی قیمتوں کو عارضی طور پر کم کر سکتی ہے، اس لیے محتاط منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
