ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے پاکستان میں کرپٹو ٹریڈرز کے بینک اکاؤنٹس فریز ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ایک جامع آگاہی گائیڈ جاری کی ہے تاکہ بے گناہ شہری کسی فراڈ میں ملوث ہوئے بغیر محفوظ ٹریڈنگ کر سکیں۔
سب سے عام فراڈ 'تھرڈ پارٹی پیمنٹ' کا ہوتا ہے جس میں دھوکے باز کسی تیسرے بندے سے پیسے ٹریڈر کے اکاؤنٹ میں بھیجوا دیتے ہیں اور جب وہ متاثرہ شخص پولیس یا ایف آئی اے میں رپورٹ درج کرواتا ہے تو جس جس اکاؤنٹ میں وہ رقم گئی ہوتی ہے وہ سب سیل ہو جاتے ہیں۔
اس سے بچنے کا واحد اور سنہری اصول یہ ہے کہ آپ صرف اسی بینک اکاؤنٹ سے پیسے لیں جو بائنانس یا بائی بٹ پر رجسٹرڈ اصلی نام کے عین مطابق ہو۔ اگر اکاؤنٹ فریز ہو جائے تو گھبرانے کے بجائے اپنے ٹریڈنگ کے اسکرین شاٹس اور ثبوت بینک اور ایف آئی اے کو جمع کروا کر باآسانی اکاؤنٹ ان فریز کروایا جا سکتا ہے۔