براہ راست
Bitcoin (BTC)Rs. 18,650,000 +1.2%
Ethereum (ETH)Rs. 995,000 +0.8%
USDT/PKRRs. 282.50 +0.1%
Gold (24K)Rs. 450,200 +0.4%
USD/PKRRs. 278.20 -0.1%
PetrolRs. 387.54 -0.38%
BREAKINGGold (24K): Rs. 450,200 (+1.2%)
BREAKINGPetrol: Rs. 387.54 (PSO Notified Rate)
BREAKINGKSE-100 Index: 82,450 (+0.5%)
BREAKINGSBP Foreign Exchange Reserves Cross $11.2 Billion Amid Steady Inflows
BREAKINGPakistan IT and Telecom Export Remittances Surge 28% Year-on-Year
BREAKINGPakistan Raises $250 Million Through First-Ever Panda Bond in Chinese Market
Crypto FutureEditorial Desk

بٹ کوائن نے ستمبر 2026 میں 65,000 ڈالر کی حد عبور کر لی: پاکستانی ٹریڈرز کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟

P
Pakistan Digital Editorial Staff
| • September 24, 2026|6 min read
Bitcoin Crosses $65,000 Mark in September 2026: What It Means for Pakistani Crypto Traders
Crypto Future • September 24, 2026

بٹ کوائن نے ستمبر 2026 میں 65,000 ڈالر کی حد عبور کر لی: پاکستانی ٹریڈرز کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟ — Pakistan Digital Coverage

خبر کے اہم نکات

  • 1
    عالمی مارکیٹ میں بٹ کوائن کی قیمتوں میں زبردست تیزی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال۔
  • 2
    پاکستان میں پی ٹو پی (P2P) ٹریڈنگ کے حجم میں ریکارڈ اضافہ۔
  • 3
    صارفین کو بینکنگ سیکیورٹی اور محفوظ ٹریڈنگ کی ہدایات جاری۔

عالمی مارکیٹ میں بٹ کوائن کی قیمت ایک بار پھر 65,000 ڈالر کی نفسیاتی حد عبور کر گئی ہے جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی فنڈز کی جانب سے بڑے پیمانے پر خریداری اور سودی شرح میں کمی کے امکانات ہیں۔ اس تیزی نے پاکستانی ٹریڈرز میں بھی نئی روح پھونک دی ہے۔

پاکستان میں لاکھوں نوجوان اور فری لانسرز ڈیجیٹل کرنسیوں اور یو ایس ڈی ٹی (USDT) کو ایک محفوظ سرمایہ کاری اور اثاثہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بٹ کوائن کی قیمت بڑھنے سے پی ٹو پی مارکیٹ میں لین دین کے حجم میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تاہم معاشی ماہرین نے ٹریڈرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر تصدیق شدہ پلیٹ فارم سے گریز کریں اور اپنے بینک اکاؤنٹس کو بلاک ہونے سے بچانے کے لیے صرف مستند طریقوں سے ہی لین دین کریں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت پاکستان کرپٹو کرنسی اور ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک واضح قانونی فریم ورک بنا دے تو اس سے نہ صرف فراڈ کا خاتمہ ہوگا بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اربوں ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈس کلیمر
یہ مواد صرف تعلیمی مقاصد کے لیے فراہم کیا گیا ہے اور اسے مالیاتی مشورہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے اپنے مالیاتی مشیر سے رجوع کریں۔