عالمی مارکیٹ میں بٹ کوائن کی قیمت ایک بار پھر 65,000 ڈالر کی نفسیاتی حد عبور کر گئی ہے جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی فنڈز کی جانب سے بڑے پیمانے پر خریداری اور سودی شرح میں کمی کے امکانات ہیں۔ اس تیزی نے پاکستانی ٹریڈرز میں بھی نئی روح پھونک دی ہے۔
پاکستان میں لاکھوں نوجوان اور فری لانسرز ڈیجیٹل کرنسیوں اور یو ایس ڈی ٹی (USDT) کو ایک محفوظ سرمایہ کاری اور اثاثہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بٹ کوائن کی قیمت بڑھنے سے پی ٹو پی مارکیٹ میں لین دین کے حجم میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔
تاہم معاشی ماہرین نے ٹریڈرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر تصدیق شدہ پلیٹ فارم سے گریز کریں اور اپنے بینک اکاؤنٹس کو بلاک ہونے سے بچانے کے لیے صرف مستند طریقوں سے ہی لین دین کریں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت پاکستان کرپٹو کرنسی اور ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک واضح قانونی فریم ورک بنا دے تو اس سے نہ صرف فراڈ کا خاتمہ ہوگا بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اربوں ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
