وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام نے 'قومی مصنوعی ذہانت پالیسی 2026' کا باضابطہ مسودہ جاری کر دیا ہے جس کا مقصد ملک میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور اس کے محفوظ و اخلاقی استعمال کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک قائم کرنا ہے۔
اس پالیسی کے تحت ایک قومی اے آئی ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جا رہا ہے جو بینکنگ، صحت اور پبلک سیکٹر میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی شفافیت اور ڈیٹا سیکیورٹی کی نگرانی کرے گا۔ مسودے میں ڈیپ فیک اور جعلی ویڈیوز کے تدارک کے لیے سخت سزائیں اور واٹر مارکنگ کے اصول وضع کیے گئے ہیں۔
مقامی آئی ٹی انڈسٹری کو سپورٹ کرنے کے لیے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ریگولیٹری سینڈ باکسز بنائے جائیں گے جہاں نوجوان ڈویلپرز اور اسٹارٹ اپس بغیر کسی پیچیدہ اجازت نامے کے اپنے جدید سافٹ ویئر اور ماڈلز ٹیسٹ کر سکیں گے۔
پاشا اور آئی ٹی ماہرین نے اس پالیسی کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت ایک لاکھ نوجوانوں کو اے آئی اور جدید پروگرامنگ کی تربیت دی جائے گی تاکہ پاکستان کی سافٹ ویئر برآمدات کو تیزی سے بڑھایا جا سکے۔